پاشکائی شمع اور اس کی رُوحانیت

گرجا گھروں میں مختلف اقسام کی موم بتیاں روشن کی جاتی ہیں۔ تاہم پاشکائی شمع کی اہمیت سب سے بڑھ کر ہے۔

پاشکائی موم بتی پاشکا کی شبِ بیداری کی عبادت کے آغاز پر نئی آگ پر برکت دینے کے بعد اُسی سے روشن کی جاتی ہے۔ اِس پر صلیب کا نشان، الفا اور اومیگا کے حروف نیز رواں سال کے ہندسے کنندہ کئے جاتے ہیں۔ مزید برآں اس موم بتی پرلوہان سے بنائے گئے پانچ دانے صلیب کے اوپر لگائے جاتے ہیں جو خُداوند یسوع مسیح کے پانچ زخموں کو ظاہر کرتے ہیں۔

شمع روشن کرنے کے بعد اسے گرجا گھر میں جسے وقتی طور پر تاریک رکھا جاتا ہےعبادتی جلوس میں لیجایا جاتا ہے جس سے یہ ظاہر کرنا مقصود ہے کہ مُردوں میں سے جی اُٹھا خُداوند بھی دراصل نور اور اُمید کا منبع ہے۔ یہ شمع پاشکائی ایام کے دوران پاک الطار کے قریب رکھی جاتی ہے۔ اِن ایام کے بعد اس شمع کو بپتسمہ کے ساکرامنٹ اور مسیحی جنازے کی رسومات کے لئے لایا جاتا ہے۔ اس سے یہ واضح کیا جاتا ہےکہ ہم بپتسمہ کے ذریعے موت سے جی اُٹھنے اور نیز اس زندگی کے اختتام پر مسیح خُداوند کے ساتھ جی اُٹھیں گے۔ بپتسمہ کے وقت لائی جانے والی موم بتیاں پاشکائی موم بتی سے ہی روشن کی جاتی ہے۔

یاد رہے کہ خُداوند یسوع مسیح کے ہیکل میں نذر کئے جانے کی عید(2-فروری) کے موقع پربھی موم بتی کو برکت دے جاتی ہے (لوقا: ۲: ۲۹-۳۲)۔ مومنین اِنہیں ہاتھوں میں لیے ہوئے پاک جلوس کی صورت میں گرجا گھر میں داخل ہوتے ہیں- بہت سارے لوگ ان موم بتیوں کو یا پھر ساتھ لائی ہوئی موم بتیوں کو برکت دلوا کر ساتھ لے جاتے ہیں اور انہیں پاک نکاح کے ساکرامنٹ، بیماروں کے مَسح اور جنازے کی رسومات پر استعمال کرتے ہیں-

  مقدس بلیز کے یومِ یادگار کے موقع پر بھی موم بتیوں کو برکت دی جاتی ہے جبکہ کاہن عبادت میں حصہ والے مومنین کو دو موم بتیوں سے ایک صلیب کی مانندبندھی ہوئی ہوتی ہیں اس سے ان کے گلوں کو برکت دی جاتی ہے کہ وہ امراض گردن سے محفوظ رہیں-

(علامات و نشانات از فادر آرتھر چارلس (صفحہ 277

Print Friendly, PDF & Email

Translate »